نظریہ،نظریہ پاکستان اور دو قومی نظریہ-
-:نظریہ
لفظ نظریہ سن کے آپ کے دماغ میں کیا آتا ہے اس کو مختلف محققین نے اپنے اپنے انداز میں بیان کیا ہے ہے معنی کے اعتبار سے اس کا مطلب ہے کوئی سوچ یا مقصد ۔
اصطلاح میں اس کی سے بہت ساری تعریفیں کی گئی ہیں جن میں سے کچھ اہم تعریفیں دیکھ لیتے ہیں
نمبر 1۔ کسی شے کو معرض وجود میں لانے کے لئے لئے جو سوچ یا فکری خاکہ انسان کے ذہن میں بنتا ہے اسے نظریہ کہتے ہیں۔
نمبر 2۔ نظریہ وہ لائحہ عمل ہے جو لوگوں کو متحد کرتا ہے ہے اور لوگوں کو اس چیز کے حصول کے لیے لئے کوشش کرنے پر پر آمادہ کرتا ہے کوئی بھی چیز ہے اس کی بقا اور اس کی اصل اس کا نظریہ ہی ہوتا ہے جب کوئی نظریہ ختم ہوجاتا ہے تو اس چیز کی کی بقا بھی ختم ہوجاتی ہے ہے مثال کے طور پر پر بیسویں صدی عیسوی کا بہت ہی اہم واقعہ جو قیام پاکستان ہے اس کے پیچھے بھی ایک مضبوط نظریہ کارفرما تھا تھا لیکن بد قسمتی سے سے ہم اس نظریے کو ٹھیک سے فالو نہیں کر پائے۔
اب ہم آگے نظریہ کے ماخذ کے بارے میں پڑھیں گے ۔
- : نظریہ کے ماخذ
ماخذ کا مطلب ہوتا ہے وہ چیز جس سے کچھ اخذ کیا جائے ان میں سب سے ۔۔۔۔۔پہلی چیز ہے وہ ہے۔۔۔۔۔۔
-: مشترکہ مزہب
لوگوں کا ایک نقطہ پر یا ایک نظریہ پر اکٹھا ہونے کے لئے لیے ان کا مشترکہ مذہب ہونا ضروری ہے اسی طرح ان کا تعلیمی مقصد بھی ایک ہو اور ان کا سیاسی مقصد بھی ایک ہو کیونکہ جب سب لوگوں کا مقصد ایک ہوگا پھر اکٹھے ہو جائیں گے اور اس کے حصول کے لیے کوشش کرنے پر آمادہ ہو جائیں گے اور پھر جو لوگ ایک نظریہ پر متفق ہو جاتے ہیں ان کا سیاسی مقصد،معاشرتی مقصد حتیٰ کہ تمام مقاصد ایک ہو جاتے ہیں ہیں اور پھر وہ اس طرح اور اس طرح وہ لوگ لوگ متحد بھی ہو جاتے ہیں مثال کے طور پر پر برصغیر پاک وہند کے مسلمان ایک مضبوط نظریے پر متحد ہوگئے تھے تھے اور قیام پاکستان کے لیے لئے کوشش کرنے پر آمادہ بھی ہو گئے تھے
-:دو قومی نظریہ
دو قومی نظریہ سے مراد ہندوستان میں میں دو بڑی قومیں آباد ہیں ہیں مسلم اور غیر مسلم مسلم سے مراد مسلمان ہیں اور غیر مسلم چونکہ ہندوستان میں ہندو اکثریت میں تھے اس لیے یہاں پر بولا جاتا ہے کہ ہندو اور مسلمان دو بڑی قومیں آباد تھیں دو قومی نظریے کی ابتدا کیسے ہوئی اور اس کی کیا وجہ بنی۔
قائد اعظم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے کے دو قومی نظریہ کی بنیاد اسی دن پڑھ گئی تھی جس دن پہلا ہندو مسلمان ہوا تھا۔ بہرحال دو قومی نظریے کا پس منظر کچھ یوں ہے ہے کہ جب محمد بن قاسم ہم ایک مظلوم عورت کی درخواست پر سندھ میں تشریف لایا اس وقت سندھ میں راجہ داہر کی حکومت تھی اس نے مسلمانوں کے قافلے کو لوٹ لیا عورتوں کو بھی یرغمال بنا لیا ۔ تو اس کا بدلہ لینے نے محمد بن قاسم آیا جس کے ساتھ ساتھ اسلام کے عربی مبلغ بھی تشریف لائے۔ محمد بن قاسم نے راجہ داہر کو شکست دی اور سندھ کو فتح کیا اسی اعتبار سے سندھ کو باب الاسلام کہا جاتا ہے اور وہ علاقوں کو فتح کرتا کرتا ملتان تک پہنچ آیا اور یوں وہ اسلامی مبلغ یہاں پر مستقل طور پر آباد ہو گئے تو تو اس طرح جب پہلا ہندو مسلمان ہوا تو اس دن دن کہ دو قومیں آباد ہوگی
اس نظریے کا اصل مقصد ایک الگ وطن کا حصول تھا اس میں مسلمان ان آزادانہ طور پر پر قرآن و سنت کے مطابق گزار سکیں۔
اب ہم لوگ ان شخصیات کے بارے میں میں دیکھنےجا رہے ہیں جنہوں نے پاکستان کی خاطر بہت کچھ برداشت کیا پہلی شخصیت ہے سر سید احمد خان خان وہ پہلے متحدہ قومیت کے حامی تھے سے لیکن ہندوؤں اور انگریزوں کے رویوں کو دیکھ کر دو قومی نظریے کے حامی بن گئے گئے 1867 میں جب اردو ہندی تنازع ہوا تو اس وقت انہوں نے اعلانن کہہ دیا کہ ہندوستان میں دو قومی ہندو اور مسلمان دو الگ الگ ہیں ہیں اور مسلمانوں کی سیاسی اور تعلیمی ترقی
کا سر سرسید احمد خان کو جاتا ہے
- :نظریہ پاکستان
نظریہ پاکستان وہ مضبوط نظریہ ہے
جوکہ قیام پاکستان کی بڑی وجہ بنا
قیام پاکستان بیسویں صدی کا ایک بہت اہم واقعہ تھا تھا نظر یہ پاکستان سے مراد ہے اسلامی نظریہ حیات ہے ہے اس کا مطلب ہے کہ برصغیر کے مسلمان اپنی زندگی اسلام کے اصولوں کے مطابق گزاریں گے اس کی ایک اور تعریف کی جاتی ہے کہ اسلامی نظریہ حیات وہ لائحہ عمل ہے جس کے مطابق مسلمان اپنی زندگی اسلام کے طریقوں کے مطابق گزاریں گے اس کی ایک اور تعریف کی جاتی ہے کہ ہندوستان کے مسلمان ایک الگ ریاست چاہتے ہیں ہیں جس میں اسلام کا بول بالا ہو اور وہ اپنی زندگی آزادانہ طور پر پر اللہ کے اصولوں کے مطابق گزاریں نظریہ پاکستان سے مراد تحریک پاکستان اور تعمیر پاکستان کا مجموعہ ہے
- :نظریہ پاکستان کے عناصر
- :نمبرا -عقائد
عقائد سے مراد وہ بنیادی عقائد ہے جوقا کہ اسلام کے مطابق مسلمانوں کے ہوتے ہیں جیسا کہ اللہ پر ایمان رسولوں پر ایمان فرشتوں پر ایمان وغیرہ انسان کا کا عقیدہ اسلامی عقیدہ کے مطابق ہونا چاہئے
-:قانون کی حکمرانی
قانون کی حکمرانی سے مراد یاد کے تمام لوگ چاہے وہ غلام ہو ہو کہ حکمران ہوں قانون کے سامنے سب برابر ہیں
جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا فرمان ہے کہ کسی گورے کو کسی کالے پر اور کسی کالے کو کسی گورے پر کوئی فوقیت حاصل نہیں نہیں ما سوائے تقویٰ کے کے مطلب کے تمام لوگ برابر ہیں ہیں اور قانون کے سامنے جوابدے ہیں
-:عدل و انصاف
نظریہ پاکستان میں عدل و انصاف سے مراد ہے ہے کہ تمام لوگوں کے ساتھ انصاف کیا جائے کسی کے ساتھ کوئی زیادتی نہ کی جائے جیسا کہ کوئی بھی معاشرہ انصاف کے بغیر باقی نہیں رہتا تو جس طرح اسلام میں عدل و انصاف ضروری ہے اسی طرح نظریہ پاکستان کے مطابق ملک پاکستان میں بھی میں
بھی انصاف ضروری ہے
چند اہم شخصیات جنہوں نے نظریہ پاکستان کو تقویت بخشی
:علامہ اقبال علامہ اقبال ہی وہ پہلی شخصیت تھیں جنہوں نے خطبہ الہ آباد میں میں تصور پاکستان دیا اور علاقوں کی بھی نشاندہی کر دی کہ کن علاقوں کو ملا کر کر اسلامی سلطنت قائم کی جائے ان کا کہنا تھا کہ مسلمان ایک الگ قوم ہیں ہے اور انہیں شمال مغربی علاقوں میں ریاست قائم کرنی چاہیے اس طرح انہوں نے ہندوستان کے مسلمانوں کو خواب غفلت سے جگایا اور الگ وطن کے حصول کے لیے لئے کوشش کرنے پر آمادہ کیا
:قائد اعظم
قائد اعظم محمد علی جناح ایک بہت ہی نڈر لیڈر تھے انہوں نے انیس سو بارہ میں مسلم لیگ جوائن کی اور انہیں کی انتھک محنت سے قیام پاکستان عمل میں آیا ہندوؤں کی چالوں کا اپنی عقل اور ذہانت سے مقابلہ کیا
ان کا کہنا تھا کہ قومیت کی جو بھی تعریف کی جائے مسلمان ایک الگ قوم ہے ان کا مذہب انکا تہذیب و تمدن ان کے رہنے سہنے کے طریقے کے ان کی ہر چیز الگ ہے اس لیے ایک الگ قوم کی حیثیت سے الگ وطن کا حق بھی حاصل ہے ان کا ایک اور فرمان تھا کہ پاکستان تو اسی دن معرض وجود میں آگیا تھا تھا جس دن پہلا ہندو مسلمان ہوا تھا۔
Comments
Post a Comment