تحریک پاکستان کے احوال

تحریک پاکستان کا پس منظر

اسلام علیکم سٹوڈنٹس آج ہم باب نمبر دو کے ٹوپک

" تحریک پاکستان "کو پڑھنے جا رہے ہیں کہ اس میں کون کون سے واقعات پیش آئے تو ہم لوگ لوگ 1905 سے 1940 تک کےاحوال کو دیکھیں گے سب سے پہلے تحریک پاکستان کا پس منظر دیکھتے ہیں ۔ جیسا کہ آپ لوگوں پچھلے چیپٹر میں بتا چکا ہوں کہ جنوبی ایشیا میں میں مسلمانوں اور اسلام کی آمد محمد بن قاسم قسم کی آمد سے شروع ہوئی جو مختلف مراحل سے سے گزرتے ہوئے مغل دور حکومت تک پہنچی اورنگزیب عالمگیر کی وفات کے بعد مسلم حکومت میں زوال کے آثار نمودار ہونا شروع ہو گئے ادھر سے ایسٹ انڈیا کمپنی نے اپنا اثر و رسوخ بڑھانا شروع کر دیا یا 1757 میں نواب سراج الدولہ نے نے انگریزوں کا راستہ روکنا چاہا ہاں لیکن جنگ پلاسی میں شہید ہو گیا اسی طرح اس علمی محاذ پر شاہ ولی اللہ کے صاحبزادگان اور ان کی اولاد اور ان کے شاگرد سرگرمِ عمل رہے اسی طرح حالات چلتے رہے اور 1857 میں میں جنگ آزادی ہوئی جس میں میں ہندوؤں اور مسلمانوں نے برابر حصہ لیا لیکن ان کو شکست سے دوچارہونا پڑا 

تحریک ِ علی گڑھ اور سرسید احمد  خان

 جنگ آزادی کی جنگ آزادی میں ناکامی کے بعد بعد مسلمانوں کے لیے لیے ایک مشکل ترین دور شروع ہوا ہوا یہ قوم انگریزوں کی نفرت انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنے 

سرسید احمد خان نے قوم کی رہنمائی کی کی تحریک علی گڑھ شروع ہوئی جس کے اہم مقاصد 

حکومت اور مسلمانوں کے درمیان اعتماد بحال کرنا مسلمانوں کو علم اور انگریزی زبان کی طرف راغب کرنا اور برصغیر کے مسلمانوں کوسیاست سے دور رکھنا 

آپنے 1859 میں میں مراد آباد میں اسکول قائم کیا ی 1863میں سائنٹفک سوسائٹی کی بنیاد رکھی 

1875میں میں علی گڑھ کالج کو قائم کیا 

رسالہ اسباب بغاوت ہند آپ کی ایک سیاسی خدمت تھی

 آپ مسلمانوں کو سیاسی طور پر کمزور سمجھتے تھے

  آپ نے 1885 میں میں مسلمانوں کو آل انڈیا نیشنل کانگریس میں شامل ہونے سے روکا

تقسیمِ بنگال1905

انیس سو پانچ میں لارڈ کرزن ہندوستان کا وائسرائے بنا نا اس نے نے بنگال کا صوبہ جو کہ بہت بڑا تھا تھا اس کو دو حصوں میں تقسیم کرنا چاہا

کیونکہ کہ اس کے کے انتظامی امور کو سنبھالنا بہت مشکل تھا تھا اور ایک گورنر کے بس کی بات نہیں تھی اس طرح اس نے اس میں شرکت کی اور مغربی بنگال میں تقسیم کرنا تھا تھا مسلمان اس تقسیم سے خوش تھے تھے کیونکہ کہ مشرقی بنگال میں مسلمانوں کی حکومت تھی تھی جو کہ ایک ایک نیا صوبہ بن گیا اور ہندو اس تقسیم سے ناخوش تھے یہی وجہ تھی کہ تقسیم بنگال کی انہوں نے مخالفت کردی z58 ے ہ دم تعاون کی تحریک شروع کی کی ان حالات میں میں انگریز حکومت نے نے گھٹنے ٹیک دیئے دیے اور 1911 میں میں تقسیم بنگال کال منسوخ کر دی گئی

شملا وفد1906:

 1906 میں سر آغاخان کی قیادت میں میں مسلمانوں کا ایک وفد لارڈمنٹو سے شملہ میں ملا مسلمانوں کو وائسرائے کی طرف سے سے مثبت جواب ملا ملا لیکن اس وقت مسلمانوں کی کوئی سیاسی جماعت نہیں تھی ان حالات کو دیکھ کر مسلمانوں نے نے 1906 میں مسلم لیگ کا قیام عمل میں لایا

منٹو مارلے اصلاحات1909

تقسیم بنگال کے واقعے کی وجہ سے ہندو اور مسلمان ایک دوسرے سے بے زار تھے تھے ان حالات کو دیکھتے ہوئے وزیر ہندی مسٹر مار لے پلے اور لارڈ منٹو نے نے مل کر کچھ اصلاحات نافز کیں جنہیں انڈین انڈین کونسل ایکٹ1909 کے نام سے پاس کیا گیا

 ان اصلاحات کے تحت مرکزی اور صوبائی قانون ساز اسمبلیوں میں میں توسیع کی گئی اور جداگانہ انتخابات کا طریقہ رائج کرنے کی منظوری دیدی گئی

میثاق لکھنؤ 1916

1916 میں مسلم لیگ اور کانگریس کا اجلاس ہوا اور ان کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا جسے میثاق لکھنو کہا گیا اس میں مسلمانوں کو الگ قوم مانا گیا کیا اور جداگانہ انتخابات کا مطالبہ بھی مانا گیا 

  تحریک عدم تعاون1920

اس تحریک اہم مقاصد درج ذیل ہیں 

حکومت کے ساتھ عدم تعاون سرکاری ملازمتوں کو ترک کرنا 

فوج میں مسلمانوں کا بھرتی نہ ہونا 

انگریزی مصنوعات کا بائیکاٹ 

عدالتی بائیکاٹ

 بچوں کو اسکول اور کالج میں

 نہ بھیجنا

تحریک ہجرت1920

1920میں علماء نے فتویٰ جاری کیا کیا کہ برصغیر اب دارالحرب بن گیا ہے ہے یہاں سے ہجرت کر جانی چاہیے تو ہزاروں مسلمان ان اپنی جائیدادیں بیچ کر افغانستان ہجرت کرگئے اور افغانستان نے ان کو اپنے ملک میں داخل نہ ہونے دیا اور انہیں مجبوراً واپس اپنے وطن لوٹنا پڑا جب یہ لوٹے پٹےمسلمان واپس آئے تو بربادی کے علاوہ ان کے ہاتھ کچھ نہ آیا

نہرو رپورٹ1928

نہرو رپورٹ نے مسلمانوں کے ساتھ کئے گئے ہ میثاق لکھنو پر پانی پھیر دیا یا اور جداگانہ انتخابات کی مخالفت کردی جسےمسلمان اپنی بقا کے لیے لازمی سمجھتے تھے تھے ۔ 

نہرو رپورٹ کی وجہ سے مسلمانوں اور انگریزوں کے درمیان 

تعلقات خراب ہو گئے

قائد اعظم کے چودہ نکات 1929:

نہرو رپورٹ کے جواب میں میں قائداعظم محمد علی جناح نے نے چودہ نکات پیش کیے یے جو نہ صرف چودہ نکات تھے بلکہ ہندوستان میں دستوری اصطلاحات کا ڈھانچہ پیش کر دیا

خطبہ الہ آباد1930

ڈاکٹر علامہ محمد اقبال نے1930 میں خطبہ الہ آباد میں مسلمانوں کو الگ ریاست کا تصور پیش کیا ۔ اپنے خطبے میں انہوں نے فرمایا کہ میری خواہش ہے کہ پنجاب، سرحد ،سندھ اور بلوچستان کو ملا کر کر ایک الگ ریاست قائم کی جائے اور ہندوستان انگریزی حکومت کے زیر سایہ رہے ہے یا آزادی حاصل کر لے لیکن مجھے شمال مغربی مسلم ریاست کا قیام تمام مسلمانوں کا مقدر نظر آ رہا ہے

1933 میں میں چودھری رحمت علی نے نے علامہ اقبال کے اس تصور کو کو پاکستان کا نام دیا کیا اور 1934 میں میں قائداعظم مسلم لیگ کے صدر بنے

:1935 کا آئین اور صوبائی خودمختاری

1935 میں برطانوی حکومت میں برصغیر میں نے آئین متعارف کرایا 

جس کے تحت 1937 میں انتخابات ہوئے آئے اس میں کانگریس نے اکثریت حاصل کی کانگریس نے مسلمانوں کی الگ شناخت ختم کرنا چاہی اور مسلمانوں پر مذہبی بنیاد پر مذہبی پابندیاں لگانی شروع کر دیں جیسا کہ مسجد کے باہر شروع کرنا مسلمانوں پر ملازمتوں کے دروازے بند کرنا اسکولوں میں اردو کی جگہ ہندی رائج کرنا کروانا اور گاندھی کی مورتی کی پوجا کروانا وغیرہ وغیرہ

اس حالات کو دیکھ کر مسلمانوں نے الگ وطن کا مطالبہ کیا یا جب 1939 میں کانگریسی وزارتوں کا ختم ہوا ہوا تو مسلم لیگ کی اپیل پر مسلمانوں نے نے 22 دسمبر 1939 کو یوم نجات منایا

قرارداد لاہور 1940

یہ قرارداد مسلم لیگ کے 27 ویں سالانہ اجلاس میں قائد اعظم کی صدارت میں لاہورمیں 23 مارچ 1940 کو پیش ہوئی مولوی اے کے فضل الحق نے پیش کی ۔

قرارداد کا متن

اس قرارداد میں قرار پایا کہ کہ مسلم لیگ کی متفقہ رائے ہے کہ کوئی بھی آئین اس ملک میں قابل عمل اور مسلمانوں کے لیے قابل قبول نہیں جب تک درج ذیل بنیادی اصولوں پر پر تیار نہ کیا جائے

یعنی جغرافیائی طور پر واحدتوں کی حد بندی دی اس طرح کی جائے جہاں مسلمان اکثریت میں ہیں مثلاً ہندوستان کے شمال مغربی اور مشرقی حصے ۔ ان کو ملا کر الگ ریاست قائم کی جائے اور اقلیتوں کو مکمل تحفظ دیا جائے۔

گاندھی اور ہندوؤں نے اس قرارداد کی مخالفت کی کی برطانوی پولیس نے اسے اسے جناح کا پاکستان قرار دے دیا یا اس کے ساتھ ساتھ بعض بعد مسلمانان برصغیر نے نے الگ وطن پاکستان حاصل کرلیا

Comments

Popular posts from this blog

نظریہ،نظریہ پاکستان اور دو قومی نظریہ-